ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ہندو مذہب اپنے نام نہاد ٹھیکیداروں کی وجہ سے ہی خطرے میں:ادت راج

ہندو مذہب اپنے نام نہاد ٹھیکیداروں کی وجہ سے ہی خطرے میں:ادت راج

Sun, 31 Jul 2016 20:56:19    S.O. News Service

نئی دہلی، 31؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )تمل ناڈو کے ایک مندر میں داخل ہونے سے مبینہ طور پر انکار کئے جانے کے بعد کچھ دلت خاندانوں کے اسلام مذہب قبول کرلینے کی خبروں کے درمیان بی جے پی کے ایم پی ادت راج نے دعوی کیا کہ ہندو مذہب تبدیلی مذہب کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنے نام نہاد ٹھیکیداروں کی وجہ سے خطرے میں ہے۔دلت لیڈر نے ملک میں ہندومذہب کے وجودپرشک کااظہارکیااورکہاکہ یہ دلتوں کے دیگر مذاہب میں تبدیلی مذہب کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی وجہ سے خطرے میں ہے۔حال میں ایسی خبریں آئیں تھیں کہ اعلی ذات کے ہندوؤں کی طرف سے دلتوں کو ناگپٹنم میں قدیم بدراکالیامن مندر میں پوجا پاٹ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرنے کے بعد کچھ دلتوں نے اسلام قبول کرنے کا پروگرام بنایا ہے، حالانکہ ناگپٹنم ضلع انتظامیہ نے بعد میں اس طر ح کی خبروں کی تردید کی تھی۔ادت راج نے کہا کہ اگر دلتوں کے لیے مندروں کے دروازے بند کئے گئے، تو وہ چرچ اور مسجد میں جائیں گے اور ہم اس کے لیے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔آل انڈیاکنفیڈریشن آف ایس سی، ایس ٹی آرگنائزیشن کے قومی صدر راج نے کہاکہ اور پھر ان ہندو مذہب کے ٹھیکیداروں کودلتوں کے چرچ یا مسجد میں جانے سے پریشانی ہو گی ۔وہ کہتے ہیں کہ ہندو مذہب خطرے میں ہے، یہ صرف ان کی وجہ سے ہے ، نہ کہ ہماری (دلتوں)کی وجہ سے۔ادت راج نے دعویٰ کیا کہ برما، تھائی لینڈ، ایران، فلپائن، قزاقستان اورافغانستان جیسے ممالک میں ہندو آبادی قابل ذکر طور پر کم ہوئی ہے اور ہندوستان میں ہندو مذہب کا وجود خطرے میں ہے اور ہم اس کے لیے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔انہوں نے دعوی کیا کہ ہندوؤں کا سب سے بڑا مندر کمبوڈیا میں ہے، لیکن وہاں ایک بھی ہندو نہیں ہے۔تنظیم کے دو روزہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایسا کوئی مذہب نہیں ہے جہاں لوگ اپنے ہی مذہب کے لوگوں پر مذہب کے نام پر حملہ کرتے ہوں ۔دلتوں پر حالیہ مظالم کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ جہاں کہیں بھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے، اس کی مذمت کی جانی چاہیے اور سب کواس کے خلاف لڑائی میں آگے آنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ میں حیران ہوں، جب بھی ان کے خلاف مظالم ہوں ،توکیوں صرف دلتوں کو آگے آنا چاہیے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو بھی اقتدار میں رہتا ہے، دلتوں پر حملہ جاری رہتاہے،صرف تعداد میں فرق ہوتا ہے۔


Share: